4 ستمبر، 2026، 9:56 AM

ایران نے امریکا کا فوجی غرور توڑ دیا، عرب تجزیہ کار

ایران نے امریکا کا فوجی غرور توڑ دیا، عرب تجزیہ کار

لبنانی عسکری ماہر کے مطابق ایران نے براہ راست فضائی یا بحری جنگ کے بجائے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے امریکی دفاعی صلاحیتوں کو مسلسل دباؤ میں ڈال کر واشنگٹن کو طویل جنگ میں پھنسا دیا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایک معروف لبنانی عسکری تجزیہ کار نے ایران کی جنگی حکمت عملی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے امریکا کے فوجی غرور اور فوری فتح کے اندازے کو شکست دے دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق، خطے کی حالیہ صورتحال اور امریکا کی مسلسل جارحانہ کارروائیوں کے جواب میں ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں کا تجزیہ کرتے ہوئے لبنانی بریگیڈیئر جنرل اکرم سریوی نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کرکے خود کو ایک ایسی طویل جنگ میں داخل کر لیا ہے جو اس کے وسائل اور گولہ بارود کو ختم کر رہی ہے اور امریکی فوجی و مالی نقصانات میں اضافہ کر سکتی ہے۔

اکرم سریوی نے یمن کے المسیّرہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف فوجی آپشن پر امریکا میں دوبارہ غور کیا جانا اس بات کی علامت ہے کہ امریکی حکومت اور فوجی اداروں کے اندر جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت کے حوالے سے اختلافات موجود ہیں۔

ان کے مطابق امریکی فوج کے متعدد اعلیٰ کمانڈروں نے حکومت کو جنگ کو جاری رکھنے کی مشکلات سے آگاہ کیا ہے۔

لبنانی تجزیہ کار نے کہا کہ امریکی اعلی فوجی افسران میدان جنگ کی حقیقتوں کو سمجھتے ہیں اور فوجی و مالی دباؤ، خصوصاً میزائلوں اور گولہ بارود کے استعمال میں اضافے نے واشنگٹن کے لیے بڑا چیلنج پیدا کر دیا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کا فضائی دفاعی نظام بھی اس وقت ایک بڑے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔

سریوی کے مطابق امریکی جنگی حکمت عملی اور فوجی نظریہ ہمیشہ اس بنیاد پر استوار رہا ہے کہ جنگ کو محدود رکھا جائے اور اسے کم سے کم وقت میں ختم کیا جائے، لیکن ایران کے جوابی حملوں نے صورتحال کو تبدیل کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے خطے کے مختلف ممالک میں موجود امریکی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنا کر جنگ کا دائرہ وسیع کر دیا، جن میں کویت، عراق، بحرین، متحدہ عرب امارات اور اردن بھی شامل ہیں۔

ان کے مطابق ایران کے وسیع پیمانے پر کیے گئے حملوں نے خطے میں امریکی فوجی اڈوں کے لیے ایک مشکل امتحان پیدا کر دیا ہے اور مسلسل کم ہوتے دفاعی گولہ بارود کے ذخائر کے باعث واشنگٹن کی اپنے فوجیوں اور تنصیبات کے تحفظ کی صلاحیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

لبنانی عسکری ماہر نے کہا کہ جدید دور میں کسی جنگ کا نتیجہ صرف اس بنیاد پر طے نہیں ہوتا کہ کس فریق کے پاس زیادہ جدید ہتھیار ہیں، بلکہ لچک، مزاحمت اور طویل جنگ کو منظم کرنے کی صلاحیت بھی فیصلہ کن اہمیت رکھتی ہے۔

ان کے مطابق ایران کی حکمت عملی دشمن پر جنگی دباؤ بڑھانے اور جنگ کو فرسایشی مرحلے میں لے جانے پر مبنی ہے۔ اس مقصد کے لیے ایران میزائلوں اور ڈرونز کی بڑی تعداد استعمال کرکے امریکی فضائی دفاعی نظام کو مسلسل مصروف اور دباؤ میں رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دشمن کی طاقت اور کمزوریوں سے بخوبی واقف ہے اور براہ راست فضائی یا بحری محاذ آرائی کے بجائے امریکی دفاعی صلاحیتوں کو بتدریج کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اکرم سریوی کے مطابق ایران نے امریکا کے ساتھ براہِ راست فضائی یا بحری جنگ میں داخل ہونے کے بجائے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے امریکی دفاعی صلاحیتوں کو نشانہ بنایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس حکمت عملی نے امریکی دفاعی صلاحیتوں پر دباؤ بڑھایا اور دونوں فریقوں کے درمیان جاری محاذ آرائی کی نوعیت میں نئے عوامل شامل کر دیے ہیں۔

لبنانی تجزیہ کار نے کہا کہ اس جنگ میں امریکا کی نمایاں غلطیوں میں سے ایک فوجی غرور اور جنگ کے دورانیے کے بارے میں غلط اندازہ تھا۔

ان کے مطابق واشنگٹن نے یہ سمجھا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ مختصر ہوگی اور امریکا جلد فتح حاصل کر لے گا، لیکن اس کے برعکس امریکا خود کو ایک ایسی طویل جنگ میں پھنسا ہوا دیکھ رہا ہے جس سے نکلنا آسان نہیں۔

سریوی نے کہا کہ امریکا بعض حملوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت تو رکھتا ہے، لیکن ایران کے خلاف ایک طویل اور تھکا دینے والی جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت اس کے لیے محدود ہوتی جا رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کی ایک بڑی غلطی یہ تھی کہ اس نے ایران کے حوالے سے وینزویلا جیسے منظرنامے کی توقع کر رکھی تھی، یعنی یہ خیال کہ ایران پر دباؤ ڈال کر تیزی سے مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

لبنانی تجزیہ کار کے مطابق موجودہ صورتحال نے ظاہر کر دیا ہے کہ ایران کے خلاف طویل جنگ کے نتائج امریکا کے ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔

News ID 1941118

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha